26 جولائی 2026 - 17:55
آل خلیفہ کی مذہبی شعائر کے خلاف پالیسیاں؛ بحرینی شیعہ اپنی دینی شناخت کے تحفظ پر قائم

منامہ: بحرین میں مذہبی ایام کے قریب آتے ہی شیعہ مسلمانوں کے مذہبی شعائر پر حکومتی پابندیوں کا سلسلہ ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پابندیاں صرف انتظامی ضوابط تک محدود نہیں رہیں بلکہ مذہبی رسومات کو محدود کرنے کے ایک وسیع تر طریقہ کار کا حصہ بن چکی ہیں، تاہم تاریخی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی شیعہ برادری اپنی دینی شناخت اور حسینی شعائر کے تحفظ کے لیے بدستور پرعزم ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اربعین حسینی سمیت دیگر مذہبی مناسبتوں کی آمد کے موقع پر بحرین حکومت کی جانب سے عزاداری کے اجتماعات کے حوالے سے جاری نئی ہدایات نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا یہ اقدامات صرف نظم و ضبط کے لیے ہیں یا مذہبی آزادیوں کو محدود کرنے کی کوشش۔

رپورٹ کے مطابق عزاداری کی مجالس کو حسینیوں تک محدود کرنا، بیرونی لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال پر پابندی اور پروگراموں کے اختتام کے اوقات مقرر کرنا ایسے اقدامات ہیں جن پر مذہبی حلقوں اور مبصرین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اگرچہ حکومتیں عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے اجتماعات کے حوالے سے قوانین وضع کر سکتی ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ جب ایسے ضوابط مذہبی شعائر کی اصل نوعیت اور کردار کو متاثر کرنے لگیں تو انہیں محض انتظامی اقدامات قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بحرین میں حسینی مجالس اور عزاداری کے جلوسوں کی تاریخ ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے اور یہ ملک کی مذہبی و ثقافتی شناخت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ مراسم کئی دہائیوں سے سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے باوجود عوامی زندگی میں اپنا مقام برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق بحرین کا تاریخی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جب بھی مذہبی شعائر پر دباؤ بڑھایا گیا، شیعہ برادری کی ان رسومات سے وابستگی مزید مضبوط ہوئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذہبی شناخت کو انتظامی پابندیوں کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا بلکہ کئی مواقع پر ایسے اقدامات سماجی اتحاد اور مذہبی وابستگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ مسئلہ صرف مجالس کے اوقات یا لاؤڈ اسپیکر کے استعمال تک محدود نہیں بلکہ اس بات سے متعلق ہے کہ حکومت مذہبی شعائر کو معاشرتی شناخت کا حصہ سمجھتی ہے یا صرف ایک انتظامی معاملہ قرار دیتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحرین کا آئین مذہبی رسومات اور اجتماعات کی آزادی کو ملک کے رائج رسم و رواج کے دائرے میں تسلیم کرتا ہے، جبکہ بین الاقوامی دستاویزات بھی مذہبی آزادیوں کو آسان بنانے پر زور دیتی ہیں۔

اسی تناظر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ ہر مذہبی موسم میں نئی پابندیوں کا نفاذ عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے، تاہم ماضی کے تجربات سے ثابت ہے کہ بحرینی شیعہ برادری دباؤ اور پابندیوں کے باوجود اپنے مذہبی شعائر سے دستبردار نہیں ہوئی۔

دوسری جانب اربعین حسینی میں شرکت کے لیے بحرینی شہریوں کے عراق سفر پر پابندی بھی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ اربعین کے قریب آنے کے باوجود ہزاروں بحرینی زائرین عتبات عالیات کی زیارت سے محروم ہیں۔

مذہبی کارکنوں کے مطابق یہ صرف ایک سفری پابندی نہیں بلکہ شیعہ مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماعات میں سے ایک میں شرکت کے حق سے متعلق معاملہ ہے۔

بحرینی حکومت کی جانب سے گزشتہ برسوں میں علما، خطیبوں، مذہبی کارکنوں اور سیاسی شخصیات کی گرفتاریوں اور پابندیوں کو بھی شیعہ مذہبی و سماجی سرگرمیوں پر دباؤ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

تاہم بحرین کے اندر عزاداری کی مجالس کا انعقاد، امام حسینؑ سے عقیدت کا اظہار اور عوامی و سوشل میڈیا پر مذہبی وابستگی کا اظہار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پابندیاں بحرینی شیعہ برادری کی حسینی ثقافت اور مذہبی شعائر سے وابستگی کو کم نہیں کر سکی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha